یہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ ہے اور یہ اس سلسلے کی دوسری بڑی چوٹی کتے کی قبر ہے۔ یہ ایک ایسے کتے کی کہانی ہے جو کہ اپنے مالک سے بہت وفادار تھا۔ اس کی وفاداری کے اعزاز میں اس بلند مقام پر یہ قبر اس کے مالک نے بنائی۔
کتے کی قبر ایک خوبصورت مقام
اس کہانی کو ایک انگریز اسٹینلے نیپئیر نے بھی رپورٹ کیا تھا۔ اس مقام سے حد نگاہ تک خوبصورت منظر نظر آتے ہیں۔
چوٹی سے ذرا پہلے کھلے میدان میں یہ پانی کا تالاب آتا ہے جس سے عام لوگ پانی پیتے ہیں۔ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں کئی روڈ پاسز بھی ہیں۔


