سندھ کا صحرائے اچھرو تھر 23 ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ صحرائے چولستان اور سندھ کے تھر کے درمیان یہ سفید صحرا منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہ صحرا سندھ کے پانچ ڈسٹرکٹس میں پھیلا ہوا ہے۔
رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان کا وسیع صحرا گنا جاتا ہے۔ یہ علاقہ فطرت کے عجائب گھر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی جنت بھی ہے۔
اچھرو تھر کی 5 منفرد جگہیں
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو یہاں کی پانچ منفرد جگہوں کے بارے میں بتائیں گے۔
1۔ چونرا گھر
3۔ سانگھڑ کی مچھلی سجی
4۔ عطا چانیو میوزیم
5۔ اچھرو تھر کا چارپائی میکر
1۔ اچھرو تھر کے چونرا گھر
اچھرو تھر کی اصل پہچان یہ چونرا گھر ہیں۔ یہ گھر ہمیں یہاں بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ ریت کے ٹیلوں پر بنے یہ گھر خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ گھر گھاس پھونس سے بنے ہوتے ہیں۔
یہ چونرے 8 سے 10 فٹ کی گول دیوار اور اوپر سے بانس کی لکڑی اور گھاس پھونس سے بند ہوتا ہے۔ ایک عام چونرا 20 ہزار تک میں تیار ہوتا ہے۔ یہ گرمی میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں۔ یہاں ہر چند کلومیٹر بعد چونرے عام ملتے ہیں۔
کسی بھی چونرے کی دیوار کا خرچہ 20 ہزار جبکہ لکڑیاں جنگل سے لاتے ہیں۔ یہ چونرے اچھرو تھر کے لوگوں کا محل ہوتے ہیں۔
2۔ اچھرو تھر کی جھیلیں
اچھرو تھر میں جھیلوں کے بے شمار چھوٹے بڑے سلسلے ہیں۔ یہ جھیلیں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان جھیلوں میں تازہ پانی، نمکین پانی اور بارش کے پانی سے بننے والی جھیلیں شامل ہیں۔
سانگھڑ شہر کے قریب ہی بقار جھیل ہے جو کہ اب ڈیم میں تبدیل کردی گئی ہے۔ یہ جھیل 80 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے
کھپرو کے قریب یہ بوتار جھیل بھی خوبصورتی میں کسی سے کم نہیں۔ اس کے اطراف میں بے شمار چھوٹی جھیلیں موجود ہیں۔
اسی طرح 7 جھیلوں کو ملانے والی یہ کلانکر جھیل ہے جو کہ دریائے ہاکڑہ کی باقیات میں سے ہے۔ یہ جھیل 70 فٹ تک گہری ہے۔
اسی کے ساتھ برچھی جھیل ہے جو کہ نیلے پانی سے بھرپور ہے۔
اچھرو تھر میں نمکین پانی کی بھی کئی جھیلں ہیں جو کہ مقامی لوگوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ مزدور محدود وسائل میں یہ کام کرتے ہیں۔ جبکہ یہ نمک پاکستان بھر میں بھیجا جاتا ہے۔
3۔ سانگھڑ کی مشہور مچھلی سجی
اچھرو تھر کے علاقے میں پانی کی بے شمار جھیلیں ہونے کے باعث مچھلی مچھلی بڑی تعداد میں ملتی ہے۔ مگر سانگھڑ کی اس دکان میں مچھلی کی سجی بنائی جاتی ہے جو کہ ذائقہ میں بہت لذیذ ہے۔
یہ مچھلی کی سجی سندھ بھر میں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ سجی کئی وزراءاعظم بھی کھاچکے ہیں۔
مچھلی سجی تیار ہونے میں دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ سیزن میں روزانہ 500 کے قریب مچھلی سجی تیار ہوتی ہے۔ کوئلے کے گرد مچھلیاں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔
یہ فش سجی آٹھ مصالحوں سے تیار ہوتی ہے۔ اس کے بعد املی کی چٹنی کے ساتھ اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس مچھلی سجی کی فارمنگ چوٹیاری ڈیم میں کی جاتی ہے۔
4۔ عطا چانیو میوزیم
اچھرو تھر میں صحرا کے بیچ میں یہ میوزیم ہے جہاں مختلف چیزوں کی شاندار کلکشن رکھی گئی ہے۔ عطا چانیو کو یہ میوزیم بنانے کا خیال شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری پڑھ کر آیا۔ ان کا ماننا ہے کہ مشکلات میں ہی اصل مزہ ہے۔
اس میوزیم میں فوسلز، اسلامی اور پہلے دور کے سکے، جانوروں کی گھنٹیاں، بندوقیں، موسیقی بنانے کے آلات اور کتابوں کی بڑی کلکشن شامل ہے۔ یہ ساری کلکشن ذاتی طور پر کی گئی ہے۔
5۔ اچھرو تھر کا چارپائی میکر
اچھرو تھر میں ہنرمند لوگوں کی کمی نہیں۔ انہی میں سے ایک نظر محمد بگٹی گاوں کے عاجز بگٹی ہیں۔ یہ تیس سال سے چارپائی بنا رہے ہیں۔ نظر بگٹی ڈیزائن والی چارپائی بناتے ہیں اور یہ سارا کام ہاتھ سے کرتے ہیں۔
ان کے ہاتھ سے بنی چارپائی پاکستان بھر میں اور بیرون ملک بھی جاتی ہے۔ یہ چارپائی تیار ہونے میں بیس دن تک لگ جاتے ہیں۔
تو یہ تھیں اچھرو تھر کی وہ چند جگہیں جو کسی کو بھی وزٹ کرنا چائیے جب وہ یہاں آئے۔
