مکران کوسٹل ہائی وے کے عجائبات

مکران کوسٹل ہائی وے کا شمار دنیا کی خوبصورت ترین ہائی ویز میں ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں تو مکران کوسٹل ہائی وے کے نام سے واقف ہوں گے۔

اس ہائی وے پر شاید ہی کوئی مقام ہوگا جہاں آپ رک کر تصاویر بنانے پر مجبور نہ ہوں۔ مکران ہائی وے تقریبا 650 کلومیٹر پر محیط ہے۔

مکران کوسٹل ہائی وے کا پراجیکٹ 2002 میں شروع ہوا اور 2004 میں ختم ہوا۔ اس سڑک کی تعمیر سے پہلے جو فاصلہ تھا وہ دو دن میں طے ہوتا تھا۔

مکران کوسٹل ہائی وے کے 10 ان دیکھے مقامات

آج جانتے ہیں کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کریں تو کن جگہوں پر وزٹ کریں۔

1۔ مڈ والکینو

مکران کوسٹل ہائی وے کے مختلف مقامات پر یہ مٹی اگلتے پہاڑ ہیں۔ ان پہاڑوں سے گرم مٹی نکلتی ہے جس کو والکینک ایش بھی کہتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہ مٹی اگلتے پہاڑ پائے جاتے ہیں۔ ان سب میں نامور چندرگپ مڈ والکینو ہے۔

مٹی اگلتے پہاڑوں کی تعداد بلوچستان میں 100 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ جبکہ یہ چھوٹے سے بڑے ہر سائز میں ہمیں مل سکتے ہیں۔

ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ پہاڑ بہت مقدس ہیں۔ وہ ان پہاڑوں کو پانے جسم پر مل کر خاص روحانی طاقت اور سکون محسوس کرتے ہیں۔

2۔ سپٹ بیچ

مڈ والکینوز کے پاس ہی سپٹ ایک ایسا منفرد ساحل ہے جس کے ساتھ غار بھی ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ غار بہت ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ لوگ سپٹ بیچ کو بلوچستان کے مسحور کن ساحلوں میں شمار کرتے ہیں۔

سپٹ بیچ چندرگپ مڈ والکینو سے تقریبا آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں پر بوجی کوہ کے نام سے ایک چٹان بھی ہے۔

3۔ کنڈ ملیر

کنڈ ملیر کے ساحل کو 2018 میں ایشیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں شمار کیا گیا تھا۔ یہ کراچی سے 240 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ویسے تو کنڈ ملیر ماہی گیروں کی ایک بستی ہے۔ ادھر کراچی کے اکثر لوگ ویک اینڈ پر پکنک منانے کیلئے آتے ہیں۔

اب کنڈ ملیر میں کافی تعداد میں ہوٹلز بھی کھل چکے ہیں۔ یہیں پر منفرد گولڈن بیچ بھی ہے۔ جبکہ محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں بھی ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اس مقام کے بالکل سامنے نانی مندر کی طرف راستہ جاتا ہے۔

4۔ دریائے ہنگول

کنڈ ملیر سے ذرا پہلے ایک راستہ دریائے ہنگول کی طرف جاتا ہے۔ ہنگول بلوچستان کا سب سے لمبا دریا ہے جس کی لمبائی 350 میل ہے۔

کہتے ہیں کہ اس دریا میں سال بھر پانی رہتا ہے۔ یہی راستہ آگے نانی مندر کی طرف جاتا ہے جس کو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔

5۔ امید کی دیوی

کنڈ ملیر سے آگے جائیں تو یہ امید کی دیوی کا مجسمہ آتا ہے۔ یہ ایک قدرتی طور پر بنی چٹان ہے۔

اس مجسمے کو یہ نام ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی نے دیا تھا جب وہ یہاں 2002 میں یواین کی امبیسیڈر کے طور پر آئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور مجسمہ ہے جو کہ مصر کے ابوالہول سے مماثلت رکھتا ہے۔

ہنگول میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں ایسے خوبصورت لینڈ سکیپ پائے جاتے ہیں۔ ہنگول کی خوبصورتی کی وجہ بھی یہی پہاڑ ہیں کن کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ اسی سرزمین پر واقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مجسمے سمندری ہواوں کے کٹاو کے باعث قدرتی طور پر ایسی شکل اختیار کرگئے۔

6۔ پسنی بیچ

پسنی کو رقبے کے لحاظ سے گوادر کی سب سے بڑی تحصیل مانا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ ماہی گیروں کی ایک قدیم بستی ہے۔ جبکہ یہاں کا ساحل بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر آپ ادھر آئیں تو اس ساحل پر کچھ وقت ضرور گزاریں۔

میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے یہاں کے سینڈ آرٹسٹس بھی مل گئے جنہوں نے میرے سفر کو یادگار بنادیا۔ یہیں پر صحرائی علاقہ بھی ہے جو کسی بھی نئے آنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

7۔ گوادر

گوادر آج کل دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں دیکھنے کی بہت سی جگہیں ہیں جس میں گوادر کرکٹ اسٹیڈیم بہت مقبول ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی گوادر بیچ لائبریری بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

گوادر کے پرانے شہر میں کریموک ہوٹل اور قلعہ عمان بھی قابل ذکر ہیں۔ جبکہ جیوانی کے بعد گوادر کا سورج غروب ہونے کا منظر بھی قابل دید ہے۔

8۔ گنز کا گاوں

مکران کوسٹل ہائی وے پر جتنے ساحل ہیں ان میں گنز کا ساحل سب سے خوبصورت اور منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں پرتگالی آئے تھے جن کے قصبے کا نام گنج تھا جو بگڑ کر گنز بن گیا۔

گنز کے ساحل پر ہمیں ڈالفنز کا خوبصورت نظارہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی مچھلی کا ذائقہ بھی بہت لذیذ ہے۔

9۔ جیوانی

جیوانی پاکستان کا سب سے آخری پورٹ ہے۔ اس کا ائیر بیس دوسری جنگ عظیم میں برٹش کے استعمال میں رہا۔ جبکہ جیوانی کی دنیا بھر میں وجہ شہرت اس کا سورج غروب ہونے کا منظر ہے جو ہر دیکھنے والے پر سحر طاری کردیتا ہے۔

10- وکٹوریہ ہٹ

کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں جیوانی میں سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے ملکہ وکٹوریہ نے آنا تھا۔ وہ یہاں آئیں یا نہ آئیں اس پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

مگر ان کی آمد کی خبر سن کر یہاں ایک ہٹ بنایا گیا تھا جو آج بھی ملکہ وکٹوریہ کے نام پر وکٹوریہ ہٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کا کنٹرول اب کوسٹ گارڈز کے پاس ہے۔ تویہ وہ سب جگہیں ہیں جو مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کے دوران کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*