رسول پور گاوں کا شمار نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے مثالی گاوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کو بنے 70 سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آج بھی ہم تیسری دنیا کا ملک کہلاتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ضلع راجن پور میں ایک ایسے گاوں میں لے کر چلیں گے جو کہ نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دنیا کے لئے بھی مثال ہے۔ یہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح ہی روایتی گاوں ہے مگر یہاں کے لوگوں نے گورننس اور تعلیم سے متعلق ایسے اصول سیٹ کئے جس کی وجہ سے اس گاوں کو ایک منفرد مقام حاصل ہوگیا۔
تو جانتے ہیں رسول پور گاوں کی چند خاص باتیں۔
1۔ جرائم سے پاک گاوں
رسول پور گاوں میں جرائم کی شرح صفر ہے۔ 1933 سے آباد اس گاوں کی آبادی 3000 کے قریب ہے لیکن آج تک اس گاوں کے کسی فرد پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ لوگوں کے چھوٹے موٹے جھگڑے باہمی اشتراک سے حل کئے جاتے ہیں۔ آج تک اس گاوں میں کوئی قتل بھی نہیں ہوا۔
2۔ تعلیم
رسول پور گاوں پاکستان کا واحد گاوں ہے جہاں تعلیم کی شرح 100 فیصد ہے۔ یو این کی تعریف کے مطابق کوئی شخص لکھ پڑھ سکے اور اپنا نام لکھ سکے۔ مگر رسول پور گاوں کا معیار ذرا بلند ہے۔
بچے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرتے ہیں اور یہاں وہ شخص جاہل تصور کیا جاتا ہے جس نے کم از کم میٹرک تک تعلیم حاصل نہ کی ہو۔ مڈل تک تعلیم بھی قابل قبول نہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی دکان پر بھی ایف اے پاس یا گریجویٹ نظر آتا ہے۔ یہاں لڑکے اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ سکول ہیں۔
سکول کی دیواروں پر نامور سکالرز کے اقوال نظر آتے ہیں جو لاہور کے بڑے بڑے سکولوں میں بھی ڈھونڈنے سے نہ ملیں۔ یہاں کے ایک ایس ایس پی عارف نواز نے اپنے ایک رسالے میں یہاں کے لوگوں کی علم سے محبت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا کہ یہاں کی تو بلی بھی گریجویٹ ہے۔
اس گاوں کے تعلیم یافتہ افراد نہ صرف پاکستان بلکہ یورپ کے مختلف ممالک میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
3۔ گورننس
راجن پور کے اس مثالی گاوں میں صفائی ستھرائی کا بھرپور انتظام ہے۔ نوجوانوں پر مشتمل ایک آرڈی ایس سوسائٹی ہے جو ہر گھر سے 200 روپے اکٹھا کرتی ہے اور گاوں کو صاف رکھنے کا انتظام سنبھالتی ہے۔
4۔ فیصلہ سازی
رسول پور گاوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں کی عورتوں کو نہ صرف تعلیم کے معاملے میں خود مختار کیا گیا ہے بلکہ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی شامل کیا جاتا ہے جو کہ کسی گاوں میں شاید ہی ممکن ہو۔ اس گاوں میں خواتین انجنیئرز اور ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔
5۔ نو سموکنگ ایریا
رسول پور گاوں میں داخل ہوتے ہی مسافروں کے لئے ایک آرام دہ بیٹھک موجود ہے۔ مگریہاں پان اور سگریٹ کی بالکل اجازت نہیں۔ پہلے یہاں ہوٹل بھی نہیں تھا مگر اب مزدوروں کے لئے یہ سہولت دی گئی ہے جہاں چائے بھی ملتی ہے۔ پہلے یہاں چائے پر بھی پابندی تھی۔
یہاں کے لوگ چائے پینے کے عادی نہیں جبکہ دودھ اور لسی کا استعمال وافر مقدار میں کیا جاتا ہے۔ کسی غیر مرد کو بھی یہاں زمین خریدنے کی اجازت نہیں۔ رسول پور گاوں سبق دیتا ہے کہ آج بھی تعلیم سب سے بڑی طاقت ہے۔ کیونکہ اگر تعلیم ہوگی تو چوری، قتل، ڈکیتی، اور نشہ آور بیماریاں اپنی موت آپ مرجائیں گی اور اس علاقے کو رسول پور بنادیں گی۔
