سرگودھا کے کینو دنیا بھر میں اپنے منفرد ذائقہ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ضلع سرگودھا صوبہ پنجاب کا وہ علاقہ ہے جس کے اطراف میں کینو کے باغات کے خوبصورت مناظر جگہ جگہ دیکھے جاسکتے ہیں۔
نومبر کے آخر سے فروری تک وہ موسم ہوتا ہے جب کینو اتارے جارہے ہوتے ہیں اور مارکیٹ میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔ کنو کی پیداوار کے حوالے سے سرگودھا کا علاقہ بھلوال اور کوٹ مومن نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
کینو کا پھل لگنے میں 3 سے 4 سال لگتے ہیں جبکہ اس کے ایک درخت پر کنو لگنے کی عمر 40 سال تک ہوتی ہے۔
کنو کے پھل کی صفائی کے بعد نارمل موسم میں کنو 15 سے 18 دن تک ٹھیک رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیڑ سے اتارنے کے بعد کنو کو تقریبا 90 دن تک 25 ڈگری پر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
تو جانتے ہیں پاکستانی کنو کی چند اہم خصوصیات
1۔ رسیلے پھلوں کا بادشاہ
اپنی خوبیوں کے باعث کنو کو رسیلے پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستانی کنو جیسی شکل اور ذائقہ دنیا میں اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ کنو کا موسم دسمبر سے فروری تک ہوتا ہے۔
کینو کی پیداوار میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور اسی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ایک اہم پھل بنتا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 100 ملی لیٹر کے کنو میں سے 25 ملی گرام تک وائٹامن سی ہوتا ہے جبکہ چینی کی مقدار 12 سے 13 فیصد ہوتی ہے۔
2۔ کیلی فورنیا آف پاکستان
اپنے زرخیز رقبے اور کنو کی پیداوار کے باعث ضلع سرگودھا کو کیلی فورنیا آف پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ کنو لگانے کا سب سے بہترین علاقہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے کنارے ہے جو کہ سرگودھا ڈویژن بنتا ہے۔
کہتے ہیں کہ سرگودھا کا شمار پاکستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں کنو کی مجموعی پیداوار کا 60 سے 70 فیصد پھل ہوتا ہے۔
ضلع سرگودھا میں 15 لاکھ ٹن سے زائد سالانہ کنو پیدا ہوتا ہے۔ یہاں پر سب سے زیادہ دو لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبہ پر کنو کے باغات ہیں۔ یہاں کے کنو کی جسامت بھی دنیا بھر کے کنووں سے بہتر ہے۔
3۔ کینو کی پروسیسنگ
سرگودھا ڈسٹرکٹ میں کنو کی گریڈنگ اور ویکسنگ کی کئی سو فیکٹریاں موجود ہیں۔ گریڈنگ پلانٹس کا مقصد پھل کو بہتر انداز میں درآمد کرکے زرمبادلہ کمانا ہوتا ہے۔ فیکٹری میں باغات سے کنو لائے جاتے ہیں جہاں ان کی صفائی ستھرائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔
پہلا مرحلہ کنو کی دھلائی کا ہوتا ہے۔ اس میں کنو کو پانی سے دھویا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کنو کی پالش کی جاتی ہے۔ اس میں جو لیکویڈ استعمال ہوتا ہے وہ پھل دوست ہوتا ہے۔
کنو کی پالش کے بعد ہر کنو کو اپنے سائز کے مطابق مشین کے ذریعے ہی مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ آخری مرحلے میں کنو کی پیکنگ کی جاتی ہے جہاں سے یہ مال نہ صرف پاکستان بھر کے مختلف حصوں بلکہ بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے۔
اے گریڈ کنو روس، کینیڈا، انڈونیشیا، خلیجی اور مختلف یورپی ممالک بھیجا جاتا ہے۔ بی گریڈ کنو افغانستان جبکہ سی گریڈ کنو جوس بنانے کی فیکٹریوں میں بھیجا جاتا ہے۔ جو کنو ہم پاکستانی استعمال کرتے ہیں اس کا شمار بھی اے گریڈ میں ہوتا ہے۔
پاکستانی کنو کا اس وقت سب سے بڑا خریدار ملک روس ہے۔
4۔ روزگار کا ذریعہ
باغات میں کنو کے پھل کو توڑنا بھی ایک فن اور روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس وقت ضلع سرگودھا میں کنو کی پروسیسنگ کے بے شمار کارخانے کام کررہے ہیں جہاں ہزاروں افراد کو روزگار ملتا ہے۔
ہر سال کنو کے سیزن میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ضلع سرگودھا کا رخ کرتے ہیں اور کنو کی کٹائی سے لے کر فیکٹریوں میں پیکنگ تک اس عمل کا حصہ بنتے ہیں۔
ملک بھر میں ڈھائی لاکھ لوگ کینو کے سیزن میں روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کارخانے ان مزدوروں کو فری رہائش اور کھانا بھی فراہم کرتے ہیں۔
5۔ فائدہ مند پھل
کنو ایک بڑا ایکسپورٹ پھل بن چکا ہے اور اسی وجہ سے یہ ایک منافع بخش کاروبار بھی ہے۔ کینو کی فصل کو نہری پانی درکار ہوتا ہے جبکہ دوسری فصلوں کے مقابلے میں اس کو پانی بھی کم لگانا پڑتا ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں رسیلے پھلوں کا 13واں بڑا پروڈیوسر ہے۔
رپورٹس کے مطابق سال 2020 میں پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ 222 ملین ڈالر کنو کی ایکسپورٹ سے کمایا۔ جبکہ اسی سال میں پونے چار لاکھ ٹن کنو درآمد کیا گیا۔ کرونا کی صورتحال کے باوجود بھی پاکستانی کنو کی عالمی مارکیٹ میں مانگ بہت زیادہ ہے۔
