سوات کا تاریخی سفید محل

سفید محل 1940 میں سوات کے پہلے بادشاہ میاں گل عبدالودود نے تعمیر کروایا تھا۔ اس محل میں سفید پتھر کا استعمال کثرت سے ہونے کی وجہ سے اس کو سفید محل کا نام دیا گیا۔ سفید محل کی تعمیر میں جو پتھر استعمال ہوا یہ وہی تھا جو آگرہ کے تاج محل میں استعمال ہوا۔ سفید محل کے لئے سنگ مرمر راجھستان سے منگوایا گیا تھا۔

سفید محل کی تیاری

راجھستان برصغیر میں معدنیات کا بڑا مرکز تھا۔ اس پورے خطے میں یہ پہلی عمارت تھی جو کہ وکٹورین آرکیٹیکچر طرز پر تعمیر کی گئی۔ محل کا نقشہ بیلجئیم کے ایک انجینئر نے بنایا تھا۔ محل کا رقبہ 1800 مربع گز ہے جبکہ اس کی بلندی 35 فٹ ہے۔

سفید محل میں کل 24 کمرے ہیں جبکہ دو بڑے کانفرنس ہال بھی ہیں۔ محل میں ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم، میٹنگ روم اور بادشاہ صاحب کا ذاتی کمرہ بھی ہے۔ جبکہ یہاں ملکہ الزبتھ دوم اور شہزادہ فلپ بھی تین دن قیام کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی نامور شخصیات بھی یہاں آچکی ہیں۔

بادشاہ صاحب یہاں گرمیوں میں قیام کرتے تھے۔ اس محل کی چھت کی اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی نہیں ہوتی تھی۔ محل میں لگائے گئے برقی آلات اور پنکھے انگلستان سے منگوائے گئے تھے۔ جبکہ یہاں پر لگے میز اور کرسیاں بھی سفید ماربل سے بنے ہیں۔

سفید محل کا نام تین دفعہ تبدیل ہوا۔ پہلے یہ سواتی محل، پھر موتی محل اور آخر میں سفید محل میں تبدیل ہوا۔ سفید محل تاریخی لحاظ سے اس وجہ سے بھی اہم ہے کیونکہ یہاں مستقبل کے فیصلے بھی ہوا کرتے تھے۔

سفید محل کے ایک کونے میں مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ یہاں 200 سال پرانا چنار کا درخت بھی ہے جس کے ساتھ ایک چشمہ بہتا ہے۔ سفید محل اب ہوٹل میں تبدیل ہوچکا ہے مگر سیاحوں کے لئے کھلا ہے۔ گرمیوں میں یہ جگہ وزٹ کرنے کےلئے بہترین آپشن ہے۔

سوات کا سفید محل مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*