شاہی باغ سوات کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک ہے۔ یہ جگہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان بھر کے سیاحوں کو متاثر کررہی ہے۔
یہ باغ تقریبا 8500 فٹ بلندی پر واقع ہے اور پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ شاہی باغ ہرے بھرے جنگلات اور پانی کے چشموں کا مجموعہ ہے۔
شاہی باغ کی منفرد خصوصیات
تو جانتے ہیں شاہی باغ کی چند خاص باتیں
1۔ ایک خوبصورت جزیرہ
درختوں میں گھرا یہ باغ ایک جزیرہ نما جگہ ہے جس تک ایک پل کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔ یہ جگہ زمین پر جنت محسوس ہوتی ہے۔ وقت گزارنے کے لئے شاہی باغ بہترین جگہ ہے۔
اس باغ کی خوبصورتی بہت منفرد ہے اور الفاظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔ کئی بلند و بالا آبشاریں بھی شاہی باغ کا حصہ ہیں۔
سیاح اس وادی کو شاہی لوگوں کی جنت کہہ کر پکارتے ہیں اور اس جگہ کو ہر طرف سے ندیوں سے گھیرا ہوا ہے۔
اس وادی میں قدرتی جھیلیں اور خوبصورت درخت منظر کو مزید دلکش بنادیتے ہیں۔ یہ باغ ایک جزیرہ ہے اور اس کو دیکھ کر کسی راجہ کے باغ کا گمان ہوتا ہے۔ ہر طرف گھنے جنگلات کے سلسلے ہیں اور کیمپنگ کے لئے بھی یہ ایک بہترین جگہ ہے۔
شاہی باغ میں کئی آبشاریں بھی ہیں۔ بڑی آبشار 50 فٹ کی بلندی پر ہے جس کی دھار دور تک محسوس ہوتی ہے۔ ہر سال جون کے مہینے میں خانہ بدوش بھیڑ بکریوں کو لے کر یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
اب یہاں لکڑی کے کئی عارضی ہوٹل بھی تعمیر ہوچکے ہیں۔ اس علاقے میں مختلف قیمتی دھاریں بھی پائی جاتی ہیں جن میں گرینائٹ اور کرومائٹ قابل ذکر ہیں۔
2۔ ٹریک
شاہی باغ کا ٹریک کچا ہے اور پتھروں پر مشتمل ہے۔ ٹریک کے ساتھ ساتھ دریا چلتا ہے جو کہ سفر کو مزید حسین بنادیتا ہے۔ یہ راستہ جون سے ستمبر تک کھلا ہوتا ہے۔
اتروڑ سے قریبا یہ ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے۔ اس راستے میں لکڑی سے بنی نہریں بھی نظر آتی ہیں جس میں ٹربائن لگا کر مقامی لوگ خود بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ عمل پورے علاقے میں عام ہے۔
3۔ کالا چشمہ
شاہی باغ کے راستے میں ایک کالا چشمہ آتا ہے۔ یہ چھوٹی سی جگہ ہے جہاں سے پانی باہر نکلتا ہے۔ یہاں پر ہمیں جوس کی بوتلیں قدرتی چشمے کے پانی سے ٹھنڈی ہوتی نظر آتی ہیں۔
اگر آپ کبھی کالام کا پروگرام بنائیں تو شاہی باغ ضرور جائیں۔
