شیر شاہ سوری مسجد بھیرہ

شیر شاہ سوری مسجد ایک صدی سے زائد عرصہ پرانی مسجد ہے۔ بھیرہ کا شمار برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ مغل دور کا ایک اہم شہر تھا۔

کہتے ہیں کہ شیر شاہ سوری نے برصغیر میں کافی قلعے، مساجد، باولیاں، سرائے اور مقبرے تعمیر کروائے تھے۔ انہی میں سے ایک جامع مسجد بھیرہ ہے جو کہ شیر شاہ سوری نے بھیرہ میں اپنے قیام کے دوران تعمیر کروائی تھی۔

شیر شاہ سوری ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح میں بہت زیادہ دلچسپی لی تھی۔ اس کی بنائی ہوئی مساجد اور یادگاریں آج بھی قائم ہیں جن میں سے ایک بھیرہ کی یہ شیر شاہ سوری مسجد ہے۔

یہ مسجد دہلی، آگرہ اور لاہور کی شاہی مساجد کی طرح نہایت خوبصورت ہے۔ انگریز دور کے شاہ پور پنجاب کے ڈپٹی کمشنر نے اس مسجد کو ضلع بھر میں شاندار مسجد قرار دیا تھا۔

جامع مسجد بھیرہ کے خدوخال

اس مسجد کی تعمیر 16ویں صدی میں کی گئی تھی۔ جبکہ مسجد کی داخلی طرف جیومیٹریکل ڈیزائن بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

جامع مسجد بھیرہ قلعہ روہتاس میں تعمیر کی گئی مسجد سے بھی یکسر مختلف ہے۔ اس مسجد کی بنیادیں اصل ہیں اور اس کا سوپر اسٹرکچر بعد میں تعمیر ہوتا رہا۔

اس مسجد کی دیواریں 18 سے 27 فٹ چوڑی ہیں۔ دیواروں میں مضبوطی کے لئے دیار کی لکڑی، تعمیراتی مصالحے میں چونا اور چوڑی اینٹ استعمال کی گئیں۔

شیر شاہ سوری مسجد میں چھوٹی مگر مضبوط اینٹیں استعمال کی گئیں۔ اس مسجد کی تعمیر میں کوئی لال یا سفید ماربل یا قیمتی پتھر نظر نہیں آتا۔

جامع مسجد بھیرہ کے تین گنبد ہیں جبکہ درمیان والا گنبد سب سے بڑا ہے۔ گنبد کے اوپر جو کنول کا پھول ہے اس کو موج ہاد کہتے ہیں۔ مسلمانوں نے بدھ فن تعمیر سے کنول پھول محض خوبصورتی کے لئے اپنایا تھا۔

مسجد کی محراب اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ ہوا اور روشنی کی سہولت ہو۔ بڑے گنبد کے اندرونی حصے پر برش سے خوبصورت پھول بنائے گئے ہیں۔

ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی یہ اب بھی بہتر اور پرکشش حالت میں ہیں۔ یہ ڈیزائن دیکھ کر کوئی بھی اس وقت کے کاریگروں کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

جامع مسجد بھیرہ تین دری ہے اور اس میں کونے کے کمرے ہیں۔ اس مسجد کے پہلے مینار نہ تھے مگر بعد میں 1905 میں مسجد کا حصہ بنے۔

مسجد میں فرش کا کام اور بارہ فٹ گہرا حوض بھی بعد میں تعمیر ہوا۔ اس مسجد کا کل رقبہ تقریبا 45 کنال ہے جس میں سے 20 کنال پر مسجد ہے۔

شروع میں مسجد کے گرد کوئی چار دیواری نہ تھی۔ بعد میں کونے والے کمرے بنائے گئے جہاں باہر سے آئے اساتذہ اور طالب علم قیام کرتے ہیں۔

مسجد کے ایک طرف خانقاہ بگویہ ہے جہاں پر اس کیمپس کے بانی سکالر اور صوفیاء کی قبریں ہیں۔ مسجد کا صحن کھلا ہے جہاں کافی بڑی تعداد میں لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

شیر شاہ سوری کی بنائی اس قدیم مسجد کی دیکھ بھال کا نظام بھیرہ کے مقامی لوگ ایک بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذریعے کرتے ہیں۔ سکھوں نے اپنے دور میں اس مسجد کو بطور اصطبل بھی استعمال کی تھا اور کافی نقصان پہنچایا۔

شیر شاہ سوری مسجد کی دوبارہ تعمیر

اس مسجد کی دوبارہ تعمیر قاضی احمد الدین بگوی نے 1858 اور قاضی ظہور احمد بگوی نے 1926 میں کروائی۔ اس مسجد کے ساتھ لائبریری بھی ہے جہاں 300 کے قریب نوادرات ہیں۔

یہاں آئین اکبری اور اس دور کے قرآن کی 10 کاپیاں بھی ہیں۔ ایک مدرسہ بھی شیر شاہ سوری مسجد کا حصہ ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*