وتایو فقیر نے لوگوں کو امن، محبت اور عقلمندی کا درس دیا۔ یہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے مگر بعد میں مسلمان ہوگئے۔ ان کو وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو کہ ہونا چائیے تھا۔ وہ اپنے وقت کے دانشور تھے اور مزاق مذاق میں گہری بات کہہ جاتے تھے۔
جہاں میں کل تھا وہاں تم آج ہو
اور جہاں میں آج ہوں وہاں تم کل ہوگے
وتایو فقیر ایک لازوال کردار
یہ سندھی زبان کا شعر وتایو فقیر کی قبر کے سامنے لکھا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ایک روپیہ بھی اللہ کو بھلا دیتا ہے۔ بندہ روپیے کے پیچھے تو چلا جاتا ہے مگر اللہ کے لئے نہیں جاتا۔
انہوں نے ایک دفعہ اپنی ماں کو کہا تھا کہ اماں! جہنم میں آگ نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنی آگ خود ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ان کا مزار سندھ کے شہر ٹنڈو اللہ یار کے قریب قصبہ بکیرا شریف میں واقع ہے۔
