پسنی سینڈ آرٹ سرکل

پسنی سینڈ آرٹ بلوچستان کا ایک روشن چہرہ ہے۔

گوادر کی تحصیل پسنی کے ساحل پر تین نوجوان ایسا سینڈ آرٹ بناتے ہیں جو پورے پاکستان میں شاید ہی کوئی بناتا ہوگا۔

پسنی سینڈ آرٹ سرکل

مٹی کی انسانی زندگی میں بہت اہمیت ہے۔ اور اگر اسی مٹی سے آرٹ بنایا جائے تو یہ مزید پرکشش ہوجاتا ہے۔

سینڈ آرٹ ایک ایسا عمل ہے جس میں مٹی کو مختلف آرٹسٹک شکلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس آرٹ کو بنانے کے لئے مٹی اور پانی دو بنیادی اجزا ہیں۔ یہ عموما سمندر کے کنارے گیلی مٹی پر بنایا جاتا ہے۔

یہ تینوں نوجوان دوست پاکستان میں تھری ڈی سینڈ آرٹ متعارف کروانے کے بھی بانی ہیں۔ ان  کے نام زبیر مختار، حسین زیب اور بہار علی ہیں۔ زبیر مختار خود ایک آرٹ ٹیچر ہیں۔ یہ تینوں پسنی سینڈ آرٹ سرکل کے نام سے ایک کلب بھی چلا رہے ہیں۔

یہ لوگ پہلے ڈیزائن کاغذ پر بناتے ہیں۔ ہھر ہر زاویے سے جائزہ لے کر اس کو مٹی پر بنانے کا آغاز کرتے ہیں۔ ان تینوں نے اپنے کام بھی تقسیم کئے ہوئے ہیں۔

ریت پر دو طرح کے ڈیزائن بن سکتے ہیں۔ تھری ڈی سینڈ آرٹ یا پھر جیومیٹریکل پیٹرن۔ میرے پسنی کے وزٹ کے دوران ان دوستوں نے میرے لئے جیومیٹڑیکل پیٹرن بنایا تھا۔

اس طرح کے پیٹرن ہمیں یورپ سے نیوزی لینڈ تک نظر آتے ہیں اور اب ان دوستوں کی بدولت ہم یہ بلوچستان کے ساحلوں پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

یہ سینڈ آرٹ بتاتا ہے کہ بلوچستان میں نہ صرف خوبصورتی موجود ہے بلکہ ایسے خوبصورت لوگ بھی ہیں جو کہ ہنرمند ہیں اور اپنا ہنر بھی دنیا کے سامنے لے کر آرہے ہیں۔

یہ نہ صرف سینڈ آرٹ کے ساتھ اپنا ہنر بلکہ بلوچستان کے خوبصورت ساحل بھی لوگوں کو دکھا رہے ہیں۔ یہ سینڈ آرٹ کچھ وقت تک برقرار رہتا ہے۔ بعد میں سمندری لہریں ان کو ختم کردیتی ہیں۔

سینڈ آرٹ کے مختلف شاہکار

تھری ڈی سینڈ آرٹ میں انہوں نے گھر، دروازے، پانی کی بوتل، پانی کا کنواں اور دیگر چیزیں بنائی ہیں۔ پسنی کے نوجوان بغیر کسی سرپرستی کے یہ آرٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب یہ بلوچستان میں باقاعدہ فن کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

پسنی کا ساحل باقی ساحلی علاقوں سے زیادہ موزوں ہے جہاں یہ آرٹ خوبصورت طریقے سے بنایا جاسکتا ہے۔ زبیر مختار بتاتے ہیں کہ انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے اس آرٹ کو دیکھا، سیکھا اور پھر خود یہ بنانے میں مہارت حاصل کی۔

ان تینوں دوستوں کے پاس کوئی باقاعدہ اوزار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خود سے بنائی ہوئی لکڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے ڈیزائن بنانے میں 2 سے 4 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اپنی ڈرائنگ کے ذریعے یہ کوئی پیغام دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

ان تینوں نے یہ کام 2012 میں شروع کیا۔ جبکہ مختلف خیالات یہ اپنی طرف سے اس میں شامل کرتے ہیں۔ اس سینڈ آرٹ کے ذریعے یہ اپنی بلوچ ثقافت کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔

ساحل پر بیچ آرٹ بنانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کو راغب کیا جائے کہ بلوچستان کے ساحلوں کو آکر دیکھیں کہ یہ کتنے خوبصورت اور حسین ہیں۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*