بلوچستان میں اس وقت کئی منفرد لائبریریاں کام کررہی ہیں جن میں سے ایک استال اونٹ لائبریری ہے۔ اونٹ اور بلوچوں کا تعلق آج کے دور میں بھی بہت مضبوطی سے قائم ہے۔ پانی یا خوراک کی فراہمی کی بات ہو، بلوچوں کی زندگی میں اونٹ ایک لازمی جزو ہے۔
میں نے اپنے حالیہ گوادر کے ٹور میں پشکان کی استال اونٹ لائبریری کا دورہ کیا۔ استال بلوچی زبان میں ستارے کو کہتے ہیں۔
بلوچستان کے ان علاقوں میں کتاب کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے اس لائبریری کا آغاز کیا گیا۔ یہ آئیڈیا لاہور کی ایک این جی او کا تھا۔
استال اونٹ لائبریری کا آغاز کیسے ہوا؟
بلوچستان کے ان علاقوں میں گاڑی یا رکشہ لائبریری چلانا مشکل کام تھا۔ یہ علاقے سڑک سے ذرا ہٹ کر ہیں اور صحرائی علاقے ہونے کے باعث یہاں اونٹ زیادہ کارآمد تھا۔
سب سے پہلے بچوں کے والدین کو قائل کیا گیا اور انہوں نے اس منصوبے کو خوش آمدید کہا۔ یہ اونٹ لائبریری ہفتے کے چھ دن کام کرتی ہے۔
ایک گاوں کا وزٹ ہفتے میں تین دن ہوتا ہے۔ اس اونٹ کو کتابوں سے سجایا جاتا ہے اور پھر متعلقہ گاوں لے جایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اونٹ لائبریری کو اپنے علاقے میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اونٹ ایک گاوں میں دو سے تین گھنٹے قیام کرتا ہے۔
بچے کچھ دیر وہاں بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں اور پھر وہ کتاب ساتھ لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔ اگلے وزٹ میں کتاب واپس کرکے نئی کتاب لے جاتے ہیں۔ یہ کتابیں بچوں کو فری میں فراہم کی جاتی ہیں۔
اس پراجیکٹ کو چلانے کے لئے مقامی طور پر بھی لوگ تعاون کررہے ہیں۔ ہم ایسے ہی ایک شخص اسماعیل سے ملے جو کہ پشکان کے علاقے میں ایک ایسی ہی اونٹ لائبیریری کو چلا رہے ہیں۔
تقریبا دو سال سے گوادر ڈسٹرکٹ میں اونٹ لائبریری کام کررہی ہے۔ ان علاقوں میں پلیری اور پشکان کے دیہات شامل ہیں۔
ان دو دیہاتوں میں 300 کے قریب بچے اس لائبریری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس اونٹ لائبریری کے لئے دیہات وہ چنے گئے جہاں سکول کم تھے۔ یہ لائبریریاں اس وقت شروع کی گئیں جب بلوچستان میں کرونا کی وجہ سے سکول بند تھے اور بچے سکول نہ جاسکتے تھے۔
بلوچستان کے اکثر علاقوں میں جہاں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے وہاں یہ اونٹ لائبریری شاندار کام کررہی ہے۔



