پنڈ سلطانی گاوں کا فرضی ریلوے اسٹیشن جو کہ کھیتوں میں تعمیر کیا گیا۔ یہ اسٹیشن اصل میں ایک بیٹھک ہے جو کہ ریلوے پلیٹ فارم طرز پر تعمیر کی گئی۔
اس فرضی ریلوے اسٹیشن کے اصل آرکیٹیکٹ عتیق الرحمٰن ہیں جو کہ سافٹ وئیر انجنئیر ہیں۔
پنڈ سلطانی گاوں کی ریلوے بیٹھک
پنڈ سلطانی ریلوے اسٹیشن کی ہر چیز ریلوے طرز کی ہے۔ یہ شاید دنیا میں اپنی واحد مثال ہے۔ یہ ریلوے اسٹیشن تین سال کے عرصے میں تعمیر ہوا جبکہ اس کا خرچ دس لاکھ روپے آیا۔
اس ریلوے اسٹیشن کی پٹڑی سیمنٹ سے بنائی گئی جبکہ پتھر کوہاٹ سے آئے۔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک ٹکٹ گھر بھی ہے۔
ٹکٹ گھر کے ایک طرف ٹرین کی آمد کے اوقات درج ہیں جبکہ دوسری طرف ریلوے کی تاریخ سے متعلق چند جملے لکھے گئے ہیں۔
اس منفرد ریلوے اسٹیشن پر ریلوے سے متعلق کتابوں پر مشتمل ایک چھوٹی لائبریری بھی ہے۔ ٹکٹ گھر میں ایک سائرن بھی ہے۔ جبکہ ایک گھنٹی بھی اس فرضی ریلوے اسٹیشن کا حصہ ہے۔ یہاں پر صرف ایک ریلوے انجن کی کمی ہے۔
یہ کوشش ریلوے سے متعلق اپنی شناخت کو بھی زندہ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ ریلوے اسٹیشن سیاحوں کے لئے بالکل کھلا ہے جبکہ ادھر آنے کے کچھ اوقات طے ہیں۔
پنڈ سلطانی گاوں کا اسلام آباد سے فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔
