کسک گاوں کے شمال میں پہاڑی چوٹی پر کسک قلعہ واقع ہے۔ قیام پاکستان سے قبل کسک کے علاقے کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔
یہاں کی زیادہ تر آبادی ہندووں پر مشتمل ہے۔ کسک ریاست پر بیرونی حملہ آور آتے رہے۔ انہی حملوں کے پیش نظر یہ جگہ قلعہ بنانے کے لئے بہترین تھی۔
کسک قلعہ کا جودھ پہاڑ
11ویں صدی میں راجہ جودھ نے اس منفرد قلعے کو تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ 13 ایکڑ رقبے پر بنایا گیا اور اس پہاڑ کی چوٹی کو جودھ پہاڑ کہا جاتا ہے۔
مضبوظ بنیادوں اور اعلیٰ تعمیری ذوق کی وجہ سے کسک قلعہ آج بھی محفوظ ہے۔ اس کے دو دروازوں میں سے ایک گرچکا ہے۔ قلعے کے اندر جانے کے لئے بڑے بڑے پتھروں سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔
قلعے کی دیوار 370 فٹ بلند ہے اور یہ مقامی پتھر کا بنا ہوا ہے۔ قلعے کی دیواریں سرخ پتھروں کو تراش کر سرخ مٹی سے تعمیر کی گئی تھیں۔
دو تالاب بھی اس قلعے کا حصہ تھے جن کے آثار اب ختم ہوچکے ہیں۔ قلعے کے تالاب پانی سے بھرتے تھے تو یہ پانی پینے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔
فوج کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی تو یہاں قلعے کے بیچ میں ایک مندر بھی بنایا گیا۔ یہ مندر اب بھی صحیح حالت میں ہے۔
ہمیں کسک گاوں سے قلعے تک پہنچنے میں تقریبا 20 منٹ لگے تھے۔ پورا راستہ جھاڑیوں سے بھر ہوا ہے۔ اس قلعے میں بادشاہ کے لئے ایک محل بھی بنایا گیا تھا۔
جبکہ فوج کے لئے 70 گھر بھی تعمیر ہوئے۔ اب قلعے کے اندر خاردار جھاڑیاں، جنگلی درخت اور پودے بڑی تعداد میں اگے ہوئے ہیں۔
اس قلعے پر امیر تیمور بھی حملہ آور ہوا تھا۔ جبکہ رنجیت سنگھ نے بھی اس قلعے کا محاصرہ کیا تھا۔ سردار سلطان فتح محمد خان نے رنجیت سنگھ کا 6 ماہ بہادری سے مقابلہ کیا۔ مگر پانی اور خوراک کی قلت ہوئی تو صلح کرنا پڑی۔
اس دور میں کسک بستی کے لئے ایک کنواں بنایا گیا تھا جو اب بھی موجود ہے۔ ضلع چکوال کا یہ کسک قلعہ محکمہ آرکیالوجی کی توجہ کا منتظر ہے۔
