گنز بلوچستان اور پاکستان کا بالکل آخری کونہ ہے۔ ادھر آکر کوئی بھی خود کو خوش قسمت محسوس کرے گا کہ وہ اتنے خوبصورت ساحلی مقام پر موجود ہے۔ یہ مقام اپنی مچھلی کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور اہم لینڈ مارک بھی ہے۔
اس مقام کو سب سے پہلے پرتگالیوں نے ڈسکور کیا۔ یہ مقام اپنی ڈالفنز کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ گنز جیوانی کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے۔
یہ بنیادی طور پر مچھیروں کی بستی ہے۔ یہ قصبہ پاکستان کی آخری ساحلی پٹی جیوانی سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہاں کے پہاڑ بھی حیران کن ہیں اور بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں کی نسبت اس کا ساحل خوبصورت ترین ہے۔ یہاں کا پانی بالکل نیلا ہے اور یہ علاقہ ابھی تک سیاحوں کی بڑی تعداد سے اوجھل ہے۔
اگر آپ ادھر کا رخ کریں تو اس ساحل پر کچھ وقت ضرور گزاریں۔
گنز ایک عالمی بحری راستہ
کہتے ہیں کہ نسل سے پرتگالی یہ بلوچ باشندوں کے قصبے کا اصل نام گنج تھا بگڑ کر گنز ہوگیا۔ گنج فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ خزانہ کے ہیں۔ جیوانی کسی دور میں عالمی بحری راستہ رہا ہے۔ یہاں کئی صدیاں پہلے بھی پرتگالی جہاز آکر ٹھہرا کرتے تھے۔
لوگ بتاتے ہیں کہ صدیوں پہلے گنز کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک پرتگالی جہاز خراب ہوگیا۔ جب کافی عرصے تک جہاز کی مرمت نہ کی جاسکی تو وہ لوگ یہیں ٹھہر گئے۔
جو لوگ کنوارے تھے انہوں نے اسلام قبول کرکے یہاں شادی کرلی اور یہاں کی مقامی ثقافت اپنالی۔ اس کے نتیجے میں ان کا سب پہناوا بدل گیا مگر چہرے آج بھی مختلف ہیں اور آنکھیں نیلی۔
تاریخی حوالے سے معلوم پڑتا ہے کہ پرتگالیوں کے جہاز جیوانی سے سندھ اسی راستے ہوکر جایا کرتے تھے جہاں یہ ٹھٹہ میں تجارت کرتے تھے۔ گنز کے ساحل کا شمار مکران کے خوبصورت ترین ساحلوں میں ہوتا ہے اور یہ ساحل کسی مغربی ساحل کے مقابلے میں کم نہیں۔
پاکستان کی سب سے مہنگی مچھلی بھی یہیں پائی جاتے ہے۔ دس کلو تک مچھلی کی قیمت پانچ لاکھ تک ہے۔
