بلوچستان میں کشتی سازی کا بڑا مرکز گوادر ہے۔ جبکہ پسنی، جیوانی اور دیگر علاقوں میں چھوٹی کشتیاں بنائی جاتی ہیں۔ بلوچستان کے مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کریں تو سمندر میں بے شمار خوبصورت کشتیاں ہماری توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔
صوبہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کئی صدیوں سے کشتیاں بنانے کے مرکز رہے ہیں۔ کشتی سازی سے وابستہ بیشتر کاریگروں نے اپنے بڑوں کو دیکھ کر یہ کام سیکھا۔
گوادر پدی زر، کشتی سازی کا اہم مرکز
یہ لوگ اب بھی روایتی طریقے سے کشتی تیار کرتے ہیں۔ صرف لکڑی کاٹنے کے لئے آرا مشین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔
ہوڑا اور لانچ کو تیار کرنے کا کام ایک ہی طرح ہوتا ہے۔ سب سے پہلے کشتی کا فریم تیار ہوتا ہے۔ پھر انجن، وائرنگ اور دیگر آلات لگائے جاتے ہیں۔ آخر میں تیار کشتی کی پالش ہوتی ہے اور مختلف رنگ اس میں بھرے جاتے ہیں۔
یہاں کام کرنے والے کاریگر کشتی کا نقشہ ذہن میں سوچ کر تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقاعدہ کوئی ڈیزائن کاغذ پر نہیں بنایا جاتا۔
کسی بھی کشتی کا وہ حصہ جو پانی میں تیرتا ہے اس میں مضبوط اور مہنگی لکڑی کا استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ کشتی کے بیلنس کا دارومدار اس حصے پر ہوتا ہے۔ اس لکڑی کو مقامی زبان میں شاگ کہتے ہیں۔
یہ لکڑی دوسری قسم کی لکڑیوں سے قدرے مضبوط ہوتی ہے۔ جبکہ چھوٹی کشتیوں کے لئے لکڑی مقامی جنگلات سے حاصل کی جاتی ہے۔
بڑی کشتیاں بنانے کے لئے ماہی گیر گوادر پدی زر کا رخ کرتے ہیں کیونکہ یہاں کشتیاں ساحل کے قریب بنتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کشتی سازی اور اس کی سجاوٹ میں خلیجی اور افریقی ممالک کی کشتیوں کی جھلک ملتی ہے۔
دوسری طرف بلوچستان میں لکڑی سے بنی کشتیوں کا رجحان کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور یہ فن زوال کا شکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ فائبر گلاس سے تیار انجن کی چھوٹی کشتی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہے۔
گوادر کی تحصیل پسنی میں کشتی سازی کے 5 کارخانے تھے جن میں سے اب صرف 1 باقی ہے۔ بلوچستان میں اس وقت آٹھ ہزار کے قریب چھوٹی اور بڑی کشتیاں رجسٹرڈ ہیں۔
