گوادر شہر اس وقت کسی بھی سیاح کا پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔ یہ شہر سیاحوں کی پسندیدہ لسٹ میں شامل ہوچکا ہے۔ میں نے یہاں اپنے وزٹ کے دوران دو دن گزارے تھے۔
گوادر کی پانچ منفرد جگہیں
آج ہم گوادر کے بارے میں 5 ایسی جگہوں کے بارے میں جانیں گے جو کہ پہلے آپ نے شاید ہی سنی ہوں گی۔
1۔ گوادر کرکٹ اسٹیڈیم
حالیہ دنوں میں گوادر کے کرکٹ اسٹیڈیم کو عالمی شہرت حاصل ہوچکی ہے۔ اپنی تعمیر کے ڈھائی ماہ کے اندر ہی یہ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
اس کرکٹ اسٹیڈیم کی اصل خوبصورتی یہ پہاڑ ہیں جو کہ اس کے اردگرد موجود ہیں۔ ای ایس پی این اور آئی سی سی نے اس اسٹیڈیم کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کیا اس سے بھی خوبصورت مقام کسی میچ کے لئے ہوسکتا ہے؟
اس اسٹیڈیم کو موجودہ شکل میں لانے میں مقامی لوگوں اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق کرکٹ اسٹیڈیم کی دیکھ بھال کا موجودہ نظام پاک فوج کے پاس ہے۔
3۔ کنٹینر بیچ لائبریری
یہ گوادر میں پاکستان کی واحد کنٹینر بیچ لائبریری ہے۔ دنیا میں اس طرح کی صرف دو لائبریریاں موجود ہیں جن میں سے ایک گوادر میں ہے۔
اس لائبریری میں کتابوں کی تعداد 2000 کے قریب ہے۔ جبکہ یہاں 10 سے 11 لوگ بیک وقت بیٹھ کر کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔
اس لائبریری میں ہفتہ وار سٹڈی سرکل کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر آپ گوادر آئیں تو اس لائبریری کا وزٹ ضرور کریں۔
3۔ کریموک ہوٹل
گوادر کے قدیم شاہی بازار میں موجود یہ کریموک ہوٹل ماہی گیروں کے لئے اہم جگہ ہے۔ کریموک ہوٹل عمانی دور کی یادگاروں میں سے ایک ہے۔
یہ کبھی بیکری ہوا کرتی تھی جس کے عرب مالک نے یہاں سے جاتے ہوئے اسے مقامی شخص کے حوالے کیا۔ یہاں لوگ بیٹھ کر قصے کہانیاں سنا کر وقت گزارتے ہیں۔ اس ہوٹل میں سال بھر چھٹی نہیں ہوتی۔
کریموک ہوٹل کے ساتھ ہی مشہور خدا بخش حلوائی کی دکان ہے۔ یہاں سے لوگ بادامی خوش ذائقہ حلوہ خرید کر کریموک ہوٹل چائے پینے ضرور آتے ہیں۔
یہ ہاشوانی گروپ کے چیئرمین صدرالدین ہاشوانی کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ بڑی تعداد میں اسماعیلی یہاں آباد ہیں۔
4۔ قلعہ عمان
عمان نے گوادر میں تین قلعے تعمیر کئے تھے جن میں سے یہ قلعہ 2007 میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ قلعہ شاہی بازار کے قریب ہی واقع ہے۔
اس قلعہ میں عمانی دور کے ساز و سامان اور اشیاء رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پیش کے پتوں سے بنی چیزیں بھی اس قلعے کا حصہ ہیں۔ قلعہ عمان کے ساتھ ہی ایک خوبصورت مسجد یہاں ہے۔
5۔ سورج غروب ہونے کا منظر
اگر آپ گوادر بیچ لائبریری جائیں تو یہاں سورج غروب ہونے کا منظر ضرور دیکھیں۔ جیوانی کے سن سیٹ کے بعد یہاں کا سورج غروب ہونے کا منظر بہت دلفریب ہے۔
آپ اگر گوادر آئیں تو سن سیٹ آپ کی لسٹ میں ضرور شامل ہونا چائیے۔
