گوندرانی بلوچستان کا ایک تاریخی مقام ہے جو کہ بیلا شہر سے نزدیک ہے۔ یہ بہت کمال جگہ ہے اور اگر اس کو دنیا کی پوشیدہ جگہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا.
کہتے ہیں کہ انسان پہلے غاروں میں رہتا تھا۔ لیکن بلوچستان میں آج بھی ایک غاروں کا شہر موجود ہے جو کہ حیران کن ہے۔
اس جگہ کو کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں پرانے گھر، شہر روغن، مائی گوندرانی کا ٹاون اور ہاوس آف سپرٹس شامل ہیں۔ ادھر موجود غاروں کے حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔
تاریخی حقائق کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں نے کافی کہانیاں اس جگہ کے حوالے سے بنالی ہیں۔ ان غاروں کے حوالے سے تین کہانیاں کافی مقبول ہیں۔
1۔ بدھ سلطنت
کچھ تاریخ دان یہ بتاتے ہیں کہ اس جگہ کسی دور میں بدھ سلطنت رہی ہے اور یہ غار 7ویں صدی میں بنے تھے۔ یہ غار رہائش اور عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ اپنی بناوٹ کے اعتبار سے بھی یہ بدھ دور کے ہی لگتے ہیں۔
2۔ شہزادہ سیف الملوک اور بدیع الجمال
دوسری کہانی کے مطابق یہاں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ پہاڑ کے اوپر جو غار ہیں وہ بتایا جاتا ہے کہ اسی بادشاہ کے تھے۔ بادشاہ کا غار دو جگہ سے کھلا ہوا تھا۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت بیٹی تھی جس کا نام بدیع الجمال تھا۔
بدیع الجمال کو چھ بدروحیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔ اپنی بیٹی کو چھڑانے کے لئے بادشاہ نے 7 لوگوں کو دعوت دی مگر سب ناکام رہے۔ آخر میں شہزادہ سیف الملوک نے بدروحوں کو مار کر بادشاہ کی بیٹی کو بچایا اور وہ بعد میں کافی عرصے تک یہاں ہنسی خوشی رہے۔

3- مائی گوندرانی
تیسری کہانی سب سے زیادہ مقبول ہے جس کے مطابق ایک پارسا عورت تھی جس کا نام مائی گوندرانی تھا۔ اس خاتون نے اپنی زندگی کی قربانی دے کر عام لوگوں کو بچایا اور ان بدروحوں کو بھی ماردیا جو کہ ان کے مال مویشی کو نقصان پہنچاتی تھیں۔
مائی گوندرانی کو انہی غاروں کے قریب دفنایا گیا ہے جہاں اب ایک مزار ہے۔ ان غاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جبکہ دیواروں میں لیمپ رکھنے کی جگہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ غاروں کے سامنے برآمدے اور کچن کی سہولت بھی ہے۔
یہ غار ان پہاڑوں کے نچلے حصے سے لے کر اوپر والے حصے تک نظر آتے ہیں۔ نچلے حصے کے غاروں کے اندر جانے کا راستہ بھی ہے۔ جبکہ پہاڑوں کے اوپر موجود غاروں تک رسائی ممکن نہیں کیونکہ وہاں جانے کا کوئی راستہ نہیں۔
ان غاروں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس وقت بھی معاشرے میں کلاس ڈویژن پائی جاتی تھی۔ 19ویں صدی میں یہاں انڈین نیوی کا ایک انگریز افسر آیا تھا جس نے یہاں غاروں کی تعداد 1500 بتائی تھی۔ اس وقت بھی یہ غار تباہی کا شکار تھے۔ اب ان کی تعداد 500 کے قریب باقی ہے۔

بلوچستان کے ان منفرد غاروں کی حالت بہتر بنانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ سب باتوں کے باوجود ان غاروں کو سیاحتی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے مگر اس طرف فی الحال کوئی توجہ نظر نہیں آتی۔
یہ غاروں کا شہر بیلا سے تقریبا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

