زیارت کا شمار بلوچستان کے پر فضا مقامات میں ہوتا ہے۔ قائداعظم نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں پر گزارے۔ زیارت شہر کو یہ نام 1866 میں بزرگ میاں عبدالحکیم کے مزار کی نسبت سے دیا گیا۔
گرمیوں میں بھی یہاں کا درجہ حرارت دیگر علاقوں کی نسبت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ جبکہ سردیوں میں شہر میں 8 فٹ تک برف باری ہوتی ہے۔
زیارت میں صنوبر کےنایاب جنگلات
یہیں پردنیا کے نایاب جنگلات میں سے ایک صنوبر کے جنگلات پائے جاتے ہیں۔ یہ صنوبر کے درخت 5 سے 7000 سال قدیم ہیں۔ کہتے ہیں کہ برف باری صنوبر کے جنگلات کے لئے مفید ہوتی ہے۔
یہ درخت اپنی قدامت کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ہم نے بھی یہاں برف باری میں موٹر سائیکل چلانے کا لطف لیا تھا۔
یہاں کی چیری بھی اپنے ذائقے اور مٹھاس کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ زیارت شہر کوئٹہ سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
