چھتل شاہ نورانی ایک پرکشش مقام

چھتل شاہ نورانی

چھتل شاہ نورانی پچھلے کچھ عرصے سے سیاحوں کی پسندیدہ ترین جگہوں میں شامل ہوتی جارہی ہے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف خشک پہاڑ ہیں۔

مگر یہاں کسی بھی سیاح کے لئے ہر طرح کی خوبصورتی موجود ہے۔ جیسا کہ یہاں کے مٹی اگلتے پہاڑ، دلکش آبشاریں، صحرا، تاریخ، بلند و بالا مٹی کے ٹیلے اور بے شمار پکنک سپاٹ۔

انہی میں سے ایک منفرد جگہ میں آپ کو دکھانے جارہا ہوں جس کو بلوچستان کا چھپا ہوا مقام کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

جھل مگسی کے صحرا اپنی جیپ ریلی کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن یہاں پیر چھتل شاہ نورانی کا علاقہ بھی ہے جس کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ یہاں کے داخلی مقام سے ہی کھجوروں کے درخت ہمارا استقبال کرتے ہیں۔

چھتل شاہ نورانی کے ٹھنڈے پانی کے چشمے

یہاں ٹھنڈے پانی کے بے شمار چشمے ہیں۔ یہیں پر پیر چھتل شاہ نورانی کا مزار ہے جو کہ 900 سال پرانا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس مزار کے اوپر جب بھی چھت ڈالی گئی وہ گرگئی۔ بزرگ کی قبر کے ساتھ کھبڑ کا ایک درخت بھی ہے۔

مزار کے اردگرد بھی کھجوروں کے بےشمار درخت ہیں جبکہ یہ پانی کا چشمہ بھی ہے جو کافی پرانا ہے۔ اور اس کی وجہ شہرت یہاں موجود مچھلیاں ہیں جو چھوٹے سے بڑے ہر سائز میں پائی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ دو سو سال سے ان مچھلیوں کا شکار نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی ایسی کوشش کرے تو مقامی لوگ مزاحمت کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ مچھلیاں کافی بڑی تعداد میں یہاں محفوظ ہیں۔ یہ مچھلیاں 60 سینٹی میٹر تک لمبی ہیں۔

چھتل شاہ نورانی

ان مچھلیوں کو مقامی زبان میں کرف اور پہاڑوں کی مچھلی کہا جاتا ہے۔ جبکہ یہ مچھلیاں ہر موسم میں اپنی جگہ رہتی ہیں۔ اگر آپ ان تالابوں میں اتریں تو یہ مچھلیاں آپ کے اردگرد تیریں گی۔ کیونکہ یہاں آنے والے لوگ ان مچھلیوں کو کھانا ڈالتے ہیں۔ ہم نے بھی ایسا کیا تو یہ مچھلیاں ہمارے اردگرد جمع ہوگئیں۔

مزار کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں یہاں مدفون بزرگ نے پالی تھیں جن کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چھتل شاہ نورانی کا اصل حسن یہ مچھلیاں ہیں جو اس جگہ کو رونق بخشتی ہیں۔ جبکہ اس میں بہنے والے پانی کو لوگ آب حیات بھی کہتے ہیں۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ان مچھلیوں کو کھانے کی کوشش کرے تو وہ اس کے لئے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ یہ قدرتی چشمے یہاں آئے لوگوں کی خاص توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

یہاں پر لوگ دور دراز علاقوں سے پکنک کے لئے آتے ہیں۔ ان چشموں کا پانی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے جبکہ پانی کے اندر تیرتی مچھلیاں اس منظر کو مزید دلکش بنادیتی ہیں۔

چھتل شاہ نورانی

یہ پانی گرمیوں میں ٹھنڈا جبکہ سردیوں میں گرم ہوتا ہے۔ چھتل شاہ نورانی میں پانی کے تالابوں کی مختلف پارٹیشن ہیں جن میں سے ہر ایک کا پانی شفاف ہے۔ پانی کی شفافیت کی ایک وجہ پانی کا مستقل بہاو بھی ہے۔ بلوچستان کی خوبصورت ترین جگہوں میں چھتل شاہ نورانی کا شمار ہوتا ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*