کہتے ہیں کہ بلوچ کی زندگی اور پیش کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کچھ درخت ایسے ہوتے ہیں جو انسانی زندگی میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہی میں سی ایک پیش کا درخت ہے جو بلوچوں کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ اس سے مختلف چیزیں بنا کر اپنا گزارہ بھی کرتے ہیں اور بازار میں بیچتے بھی ہیں۔ تربت میں اپنے سفر کے دوران میں ایسے ہی ایک کاریگر سے ملا جس کا نام میر واسطو تھا۔ میر واسطو یعنی ایسا شخص جس سے ہر ایک کو واسطہ پڑے۔
پیش اور بلوچوں کی دوستی
بلوچ قدیم زمانے سے اس درخت سے اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں بناتے آرہے ہیں۔ پیش سے چپل، ٹوکری، رسی، آٹا چھاننے والا، کھجور رکھنے کی ٹوکری، اون سے بنی چادر اور دیگر چیزیں بنتی ہیں۔ یہ لوگ چیزیں بناتے ہوئے شعر بھی کہتے ہیں۔
میر واسطو نے شعر کہا کہ جو اپنے بھائی سے لڑا وہ سب کچھ کھو گیا کیونکہ اس کی عقل جواب دے گئی۔ پیش سے جتنی مصنوعات بلوچوں نے بنائی شاید ہی کسی نے بنائی ہوں۔
یہ منفرد کاریگر پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ یہی ان کا شوق اور روزگار ہے۔
پیش کے پودے کی پیداواری کثرت کے حوالے سے بلوچستان کی سرزمین مشہور ہے۔ تقریباً 7000 لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔
اس کام میں خواتین کی تعداد 80 فیصد ہے۔ کشیدہ کاری کے بعد یہ کام عورتوں کے ذریعہ معاش کا دوسرا بڑا شعبہ ہے۔
بلوچستان میں لوگ جن جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اس کی تعمیر میں بھی یہی پتے استعمال ہوتے ہیں۔ پیش کے پتوں کو خشک کرکے ان سے چٹائی، جھاڑو، چپل، جائے نماز، رسی، ٹوپیاں، ٹوکری، آٹے کی چھنی اور دیگر چیزیں بنائی جاتی ہیں۔
جب یہ سب چیزیں تیار ہوتی ہیں تو ان کا رنگ ہرا ہوتا ہے۔ جبکہ دھوپ میں سکھانے کے بعد ان کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ پیش کا کام بلوچستان کا ایک منفرد اور روشن چہرہ ہے۔



