گوادر کی کنٹینر بیچ لائبریری

گوادر بیچ لائبریری

یہ گوادر کے ساحل پر موجود پاکستان کی پہلی کنٹینر بیچ لائبریری ہے۔ کتاب سے انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس کی ایک منفرد مثال ہم آپ کو گوادر میں دکھائیں گے۔

ویسے تو پاکستان میں کنٹینر کا تصور ہے کہ یہ جلسے میں تقریر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہےیا پھر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے۔

مگر گوادر کا یہ کنٹینر ایک منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ یہاں لوگوں کا کتاب سے تعلق جوڑا جاتا ہے۔

گوادرمیں ایک این جی او روٹری انٹرنیشنل نے کتابوں سے بھرا کنٹینر عطیہ کیا تھا۔ وہ کتابیں شہر کے مختلف حصوں میں پہنچائی جاتی تھیں۔ مگر یہاں کے لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسی کنٹینر کو ہی لائبریری کا روپ دیا جائے۔

اس کنٹینر کو رکھنے کی جگہ اور لائبریری کا فرنیچر گوادر کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے دیا تھا۔ لائبریری کے باہر ہوا کام گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کروایا تھا جبکہ کتابیں روٹری انٹرنیشنل نے دیں۔

اس لائبریری کا افتتاح 12 دسمبر 2019 کو ہوا تھا۔ یہاں 2000 کے قریب کتابیں موجود ہیں جن میں لٹریچر، ناول، سائنسی کتب، اسپورٹس، بچوں کی کتابیں اور دیگر کتابیں شامل ہیں۔

گوادر بیچ لائبریری

گوادر کنٹینر بیچ لائبریری ایک مثبت تبدیلی

گوادر بیچ لائبریری میں بیک وقت 10 سے 11 لوگ بیٹھ کر کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس لائبریری میں کئی ہزار لوگوں نے رجسٹریشن کروائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں کتابیں پڑھنے آتے ہیں۔

گوادر کی اس منفرد لائبریری میں کتاب پڑھنے کی کوئی فیس بھی نہیں لی جاتی۔ ہفتی وار اسٹڈی سرکل کا اہتمام بھی یہاں کیا جاتا ہے۔ اس لائبریری میں موجود لوگ اپنی خوشی سے کام کرتے ہیں۔

اس لائبریری کا خرچہ ڈپٹی کمشنر گوادر برداشت کررہے ہیں۔ اس طرز کی کنٹینر بیچ لائبریری دنیا میں صرف دو ہیں جن میں سے ایک بلوچستان کے شہر گوادر میں موجود ہے۔

گوادر کنٹینر بیچ لائبریری

ایسی کاوشیں یہاں کتاب کے کلچر کو پروموٹ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ اگر آپ بھی یہاں کوئی کتاب بھیجنا چاہتے ہیں تو گوادر بیچ لائبریری گوادر شہر کے ڈی سی آفس کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*