نتھو ریک صحرا کے باعث نوشکی کو پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس شہر کی وجہ شہرت یہاں کے ریگستان ہیں۔
کہتے ہیں کہ بارش کے بعد یہ علاقہ مزید خوبصورت ہوجاتا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔
صحرا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دنیا کے ہر براعظم میں پائے جاتے ہیں۔ ویسے تو بلوچستان کے شہر نوشکی کو سٹی آف گولڈن ڈیزرٹ بھی کہا جاتا ہے۔
نوشکی کی بات کی جائے تو یہاں بہت سے مقامات ہیں جیسا کہ بند دوسے ڈیم، احمدوال ریلوے اسٹیشن، زنگی ناوڑ جھیل اور نتھو ریک صحرا جو کہ ایک شاندار جگہ ہے۔
صحرا وہ علاقہ ہے جہاں سالانہ 10 انچ سے بھی کم بارش ہوتی ہے۔ یہ دن میں گرم اور رات میں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے صحرا سورج سے اتنی انرجی حاصل کرتے ہیں جتنی انسان ایک سال میں استعمال کرتے ہیں۔
دنیا بھر کے 110 ممالک کے ایک بلین لوگ صحرا میں رہتے ہیں۔ صحرا کی تمام اقسام کو ملایا جائے تو یہ ہماری دنیا کا ایک تہائی بنتے ہیں۔
نتھو ریک صحرا
نوشکی شہر صحرا کے قریب ہے جبکہ اردگرد اونچے پہاڑ اور مٹی کے ٹیلے ہیں جس کی وجہ سے اس کو سنہری مٹی کا شہر کہا جاتا ہے۔
نتھو ریک میں اکثر فصلوں کے اردگرد ہمیں درخت نظر آتے ہیں جو کہ لوگوں نے اپنی فصل کو ریت سے بچانے کے لئے لگائے ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کے کسی صحرا میں چلے جائیں وہ آپ کو ضرور متاثر کرے گا۔
جبکہ دنیا کا ہر صحرا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اگر آپ مارس کے بارے میں سوچیں گے تو ہمارے ذہن میں نتھو ریک کا خیال آتا ہے۔ یہاں پر ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
جب ہم ان صحرا میں چلتے ہیں تو ان میں دھنستے ہیں۔ اس کا ایک مقام دوسرے سے قریب لگتا ہے مگر جب آپ چلتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ قریب نہیں بلکہ دور ہیں۔
یہ شاید کسی چھوٹے پہاڑ پر چڑھنے سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ اس میں ہمارے پاوں اندر کی طرف دھنستے ہیں۔
کسی بھی صحرا میں ویسے تو دور دور تک ریت ہی ہوتی ہے مگر یہ منظر بھی دیکھنے والوں پر سحر طاری کردیتا ہے۔ نتھو ریک میں سورج غروب ہونے کا منظر بھی نہایت خوبصورت ہے۔
نتھو ریک صحرا افغانستان کے صوبہ ہلمند تک جاتا ہے۔ نوشکی شہر کوئٹہ سے 124 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
