قلعہ ہڑند راجن پور کی تحصیل جامپور کے تاریخی قصبہ ہڑند میں واقع ہے۔ یہاں ایک قلعہ بھی ہے جو قلعہ ہڑند کے نام سے مشہور ہے۔ اس قلعہ کی تعمیر کا مقصد حملہ آوروں سے محفوظ رہنا تھا۔
قلعہ ہڑند کا اصل نام کیا تھا؟
50 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے اس قلعے کا اصل نام ہری نند تھا۔ ہری نند ایک ہندو راجہ تھا جس نے یہ قلعہ تعمیر کروایا۔ مگر اب یہ قلعہ ہڑند کے نام سے مشہورہے۔
ہڑند کا مطلب سبز نالا ہے۔ اس قلعے کے ساتھ نالا بہتا تھا جس کی وجہ سے کا نام ہڑند پڑا۔ یہ مقام ہزاروں سال پرانا ہے۔ قلعے کی بیرونی دیوار ایک کلومیٹر طویل ہے۔ جبکہ اس میں 16 برج بھی تعمیر کئے گئے تھے۔
اس قلعہ کے دو دروازے ہیں۔ یہاں پر خفیہ راستے بھی تھے۔ قلعہ ہڑند موہنجوداڑو سٹائل میں چھوٹی اینٹوں سے تعمیر ہوا تھا۔ یہ قلعہ مہرگڑھ تہذیب کا حصہ بھی تھا۔ سکھ دور میں اس قلعے کے باہر اینٹیں لگانے کی کوشش ہوئی مگر یہ ناکام رہی۔
اس قلعے پر یونانی، ایرانی اور عرب فوجیں بھی حملہ آور ہوئیں۔ جب سکندراعظم اس قلعے پر حملہ آور ہوا تو یہ ایرانیوں کے قبضے میں تھا۔
سکنرراعظم نے یہ قلعہ فتح کرنے کے بعد یہاں ہندو راجہ دارا یوش کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ نوشابہ قابل، بہادر اور شکار کی شوقین تھی۔
سکندراعظم کو نوشابہ کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ وہ اس سے سکندر کے پیغام رساں کے طور پر ملا۔ شہزادی اس کو اس کمرے میں لے گئی جہاں اس کی تصوری لگی تھی۔ بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ کچھ تاریخ دان اس حقیقیت کو ماننے سے انکاری ہیں۔
محمد بن قاسم نے بھی اس قلعے کو فتح کیا تھا۔ یہ ایک کچا قلعہ تھا جو مغلیہ دور میں بادشاہ جہانگیر نے پختہ کروایا۔ مغلوں کے بعد یہ سکھوں کے قبضہ میں آگیا۔
گورچانی قبیلے نے دو مرتبہ اس قلعے پر دھاوا بولا۔ گورچانی سردار جلب خان کا قتل بھی یہاں میں دھوکے سے ہوا تھا۔
1848 میں انگریزوں نے قلعہ ہڑند گورچانی قبیلے کی مدد سے فتح کیا تھا۔ انگریزیوں نے یہ قلعہ اپنے کینٹ کے طور پر بھی استعمال کیا۔ دروازے سے داخل ہوں تو سامنے انگریزی اسٹائل کی بیرکس نظر آتی ہیں۔ اس قلعے میں ایک مسجد بھی تھی۔
قلعہ ہڑند کیسے آیا جائے؟
قلعہ ہڑند ایک وقت میں پولیس اسٹیشن بھی رہا۔ اب یہ قلعہ بارڈر ملٹری پولیس کے کنٹرول میں ہے مگر وزٹ کے لئے بالکل کھلا ہے۔ یہاں اردگرد کھجوروں کے باغات اور سبزہ نظر آتا ہے۔
قلعہ ہڑند صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور کے مغرب میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
