جاروگو کا شمار سوات کی بلند ترین آبشاروں میں ہوتا ہے۔ اس کا پانی تقریبا سوا سو فٹ بلندی سے نیچے گرتا ہے۔
جاروگو پشتو میں جھاڑو کو کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں عورتیں جھاڑو بنانے کے لئے تنکے اکٹھے کرنے آتی تھیں جس کہ وجہ سے اس علاقے کا نام جاروگو پڑا۔
دوسری کہانی کے مطابق صدیوں پہلے یہاں جاروگی نامی ایک ہندو عورت رہتی تھی۔ اسی جاروگی عورت کی وجہ سے اس علاقے کا نام جاروگو پڑا۔ آبشار کی پارکنگ تک بہترین سڑک جاتی ہے۔ راستے کے مناظر بھی بہت خوبصورت ہیں اور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
جاروگو آبشار کی ٹریکنگ
میں یہاں اپنے بیٹے اور بیگم کے ساتھ موٹر سائیکل پر آیا تھا۔ آبشار کی پارکنگ سے پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ یہ پیدل سفر بھی خوبصورت نظاروں سے بھرپور ہے۔ راستے کا آغاز جنگل میں سفر سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ ساتھ پانی کا چشمہ بہتا ہے۔
جاروگو آبشار تک جانے کا ٹریک بنا ہوا ہے اور کئی جگہ پر راستے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ جاروگو آبشار کا ٹریک قدرے سیدھا ہے۔ کئی جگہوں پر پتھروں کے اوپر سے پانی کو پار کرنا پڑتا ہے۔ میرا بیٹا بھی اس ٹڑیک پر کچھ حصوں میں پیدل چلا۔
جاروگو آبشار کا ٹریک اتنا خوبصورت ہے کہ ہمیں وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہ ہوا۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم جاروگو آبشار پہنچ گئے۔
جاروگو کی دو آبشاریں ہیں۔ ایک تو مرکزی آبشار ہے جس کی دھار یا پھوار دور دور تک محسوس کی جاسکتی ہے۔ جس جگہ پانی گرتا ہے وہاں ایک بڑا تالاب بن گیا ہے۔ دو پہاڑوں کے درمیان واقع یہ آبشار 120 میٹر سے زائد علاقہ گھیرتی ہے۔
ساتھ ہی چھوٹی آبشار ہے جس کا پانی قدرے کم ہے۔ یہاں سیاح بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ آبشار کے پاس ایک عارضی ہوٹل بھی ہے جہاں چائے اور بسکٹ بھی مل جاتے ہیں۔
جاروگو آبشار آنے کا بہترین وقت
جاروگو آبشار کے اوپر ایک بانڈہ بھی ہے جو کہ بہت خوبصورت ہے۔ یہاں آنے کا بہترین موسم جون سے ستمبر تک ہے کیونکہ سردیوں میں آبشار کا پانی قدرے کم ہوتا ہے۔ جاروگو آبشار سوات کی تحصیل مٹہ میں واقع ہے اور اس کا فاصلہ مینگورہ سے 40 کلومیٹر ہے۔
