بڈگوئی پاس کے دونوں اطراف میں خوبصورت مناظر سے بھرپور وادیاں ہیں۔ پاکستان میں بہت سے خوبصورت روڈ پاس ہیں جن میں کچھ ایڈونچر سے بھرپور ہیں۔
انہی میں سے ایک بڈگوئی پاس ہے جو کہ سوات اور دیر کی سرحد پر واقع ہے۔ بڈگوئی پاس سوات کو دیر سے ملاتا ہے۔
پاکستان کا خوبصورت بڈگوئی پاس
باڈگوئی پاس کے ایک طرف جاز بانڈہ، کنڈ بانڈہ، کٹورا جھیل، وادی کمراٹ جبکہ دوسری طرف شاہی باغ، کنڈول جھیل، مہوڈنڈ جھیل اور بے شمار جھیلیں ہیں۔
بڈگوئی پاس سطح سمندر سے 11558 فٹ بلند ہے۔ یہ راستہ اپنے خوبصورت مناظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ سیاحوں کا پسندیدہ ترین راستہ بھی بن چکا ہے جو کہ کمراٹ سے اتروڑ کی طرف جاتے ہیں۔
میں نے اپنی موٹر سائیکل پر تھل سے باڈگوئی پاس کے راستے کا انتخاب کیا۔ یہ پورا راستہ حسین نظاروں سے بھرپور ہے۔
تھل سے بڈگوئی پاس کا فاصلہ 26 کلومیٹر ہے اور اس طرف سے چڑھائی قدرے کم ہے۔ پورے راستے کا ٹریک تقریبا پتھریلا ہے۔ راستے میں پانی کی چھوٹی چھوٹی آبشاریں بھی ملتی ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق یہاں کا موسم ناقابل اعتبار ہے۔ ایڈونچر کے شوقین حضرات کا یہ پسندیدہ ترین راستہ ہے۔اس درے کے راستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھانے پینے کے مختلف پوائنٹ ہیں۔
ٹاپ پر پہنچ کر اللہ کی قدرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس راستے کو اتروڑ پاس بھی کہتے ہیں۔ دشت لیلیٰ ے مقام سے اردگرد کی وادیوں کے خوبصورت نظارے کئے جاسکتے ہیں۔
یہاں میری دیر سے تعلق رکھنے والے ٹیچرز سے ملاقات ہوئی جنہوں نے کھانے پر میری میزبانی کی۔ یہ راستہ جون سے اکتوبر تک کھلا ہوتا ہے۔ جبکہ سال کے باقی عرصہ برف باری کی وجہ سے بند ہوتا ہے۔
اگر آپ بھی کمراٹ یا وادی کالام کی طرف آئیں تو بڈگوئی پاس کا سفر ضرور کریں۔



