جامپور، منفرد صنعتوں کا شہر

جامپور راجن پور کی اہم تحصیلوں میں سے ایک ہے۔ پنجاب کے کسی بھی علاقے کی خاصیت ہے کہ وہ ہزاروں سال کی تاریخ رکھتا ہے۔ انہی میں سے ایک راجن پور ڈسٹرکٹ میں موجود جامپور شہر ہے۔ تقریبا سوا تین لاکھ کی آبادی رکھنے والے اس تاریخی شہر کے بیشتر لوگ کھیتی باڑی سے منسلک ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب سکنداعظم دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس علاقے میں بھی آیا اور یہاں کی ملکہ رخسانہ کی خوبصورتی سے متاثر ہوا۔ یہی نہیں، یہ شہر رقبے کے لحاظ سے پنجاب کی دوسری بڑی تحصیل ہے۔ تو جانتے ہیں جامپور شہر کی چند خاص باتیں:

1۔ منفرد لکڑی کا کام

جامپور کا لکڑی کا کام بہت مقبول ہے جو دیکھنے والے پر سحر طاری کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی شہرت بیرون ملک بھی ہے۔ جامپور کی چارپائی اپنے موٹے پائے اور ڈیزائن کی وجہ سے بھی مقبول ہے۔ کہتے ہیں کہ قاضی شمس الدین کو یہ کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے لکڑی کی سطح کو ہموار کرنے کے لئے لینتھ مشین بنائی۔ پھر اس لکڑی پر نقش و نگار بنانے کے لئے لاکھ دانے میں رنگ حل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ بعد میں اس کو پاکستان ووڈ ورکس کا نام دیا گیا۔

2۔ پاکستان کی سب سے بڑی موٹر سائیکل مارکیٹ

جامپور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں پاکستان کی سب سے بڑی موٹر سائیکل مارکیٹ ہے۔ یہاں ایک ہی جگہ پر 500 کے قریب دکانیں ہیں اور یہاں نئے اور پرانے موٹر سائیکل کی خرید و فروخت کا کام ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بلوچستان، سندھ اور کے پی کے کے گاہکوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

3۔ پاکستان کا بہترین تمباکو

جامپور کی کاٹن اور تمباکو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ یہاں تمباکو کی اپنی کاشت ہے جس کی مالیت اوبوں روپے ہے اور یہ کے پی کے بھجوایا جاتا ہے جو کہ نسوار بنانے کے کام آتا ہے۔ تمام تمباکو کمپنیاں اعلیٰ معیار کا سگریٹ تیار کرنے کے لئے یہاں کا رخ کرتی ہیں

4۔ جامپور کا تاج محل

جامپور کی یہ لال حویلی ایک شاہکار ہے۔ ملک ارشاد احمد جھکڑ کی اس حویلی کے تمام کمروں میں لکڑی کے خوبصورت کام کے دروازے اورکھڑکیاں نصب ہیں۔ گلدان کی سجاوٹ کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اس حویلی میں نصب لکڑی کے دروازے ملک کے مختلف حصوں سے منگوائے گئے ہیں جن کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ سجاوٹ کے کام کی تعداد 6000 کے قریب ہے۔ لال حویلی کے بالکل سامنے شاہی مسجد ہے۔

5۔ جامپور کا پین آرٹ

جامپور شہر قلم پر خطاطی کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ یہاں وہ خطاط بھی ہیں جو ایک ہی پین پر پوری پوری سورتیں اور ملکوں کے نام نقش کردیتے ہیں۔ لوگ ان پر نام لکھوا کر نہ صرف دوسرے شہر بلکہ دوسرے ممالک بھی بھجواتے ہیں۔ یہ جامپور کا کلاسیک آرٹ ہے مگر حکومتی سرپرستی نہ ہونےکی وجہ سے یہ فن اپنی موت آپ مررہا ہے۔ بہت سی جگہ یہ کام ہورہا ہے مگر جامپور جیسا کمال کہیں نہیں۔

اس کے علاوہ جامپور میں جیولری باکس، چرخا، سنگھار باکس اور سنگھار میز بھی بنتے تھے۔ اب وہ کاریگر فوت ہوگئے۔ یہاں وہ نسوار کی ڈبی بھی تیار ہوتی تھی جو انگھوٹی کا کام دیتی تھی۔

6۔ ذائقہ

جامپور میں مختلف اقسام کی مٹھائیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک خرمے کی ٹکی ہے جو کہ بالو شائی کی فیملی میں سے ہے۔ یہ میٹھے اور پھیکے کا حسین امتزاج ہے اور یہ مٹھائی جامپور کے علاوہ پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملتی۔ اور اگر کہیں ملنا شروع بھی ہوئی ہے تو وہ یہیں سے ہی آگے گئی ہے۔ اس کے علاوہ سوہن حلوہ بھی ہے جو کہ اس پوری پٹی کی خاصیت ہے۔ وہ بھی یہاں ملتا ہے۔

جامپور میں ٹیچرز، ڈاکٹرز اور کئی پروفیشنلز پیدا کرنے کا بھی ٹرینڈ رہا ہے۔ معروف سکالر عبیدالل سندھی بھی اسی قدیم شہر میں بڑے ہوئے تھے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر عبداللہ کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ اگر اس شہر پر توجہ دی جائے تو یہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جواب دیں

Your email address will not be published.

You may use these <abbr title="HyperText Markup Language">html</abbr> tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

*